بیٹیوں کو ہمیشہ کہا جاتا ہے کہ عقلمند بنو تمہیں دوسرے کے گھر جانا ہے کبھی بیٹوں کو کیوں نہیں کہا جاتا ہے کہ عقلمند بنو کوئی تمہارے لیے گھر چھوڑ کر آئے گی؟
بیٹیاں گھر کا نور ہوتی ہیں انہیں کبھی دکھ مت دو ان کے معصوم دل مت توڑو انہیں کھل کے جینے دو کہ جب بھی وہ اپنے ماں باپ کا گھر یاد کریں تو ان کے چہرے پر مسکراہٹ آجائے ان کے دل خوشی سے بھر جائیں
ماں کے بعد بیٹی کے پاس کوئی نہیں رہتا جس سے وہ دل کی بات کہہ سکے وہ بہت کچھ کہنا چاہتی ہے مگر الفاظ دل ہی میں رھ جاتے ہیں نہ کوئی سننے والا نہ سمجھنے والا وہ مسکرا دیتی ہے سب کے سامنے مگر تنہائی میں چپکے سے رو لیتی ھے